ایران میں نظامِ ولایت ہے یا نظامِ جمہوریت؟ الیکشن اور ووٹ سے متعلق ذہنی تشویش کا ازالہ


بانی انقلاب اور رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کی پچیسویں برسی کے موقع پر عظیم اجتماع سے خطاب میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے دیگر نکات کے علاوہ اسلامی شریعت  اور اس  شریعت کی بنیاد پرجمہوریت کے قیام کو حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کے دو ستون قراردیا۔

 پہلے ہم رہبر معظم کے خطاب سے نورانی جملے ملاحطہ کرتے ہیں اور اس کے بعد وضاحت پیش کریں گے

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس عظيم قومی اجتماع میں اپنے خطاب کے پہلے حصہ میں ، اقوام عالم بالخصوص مسلمان قوموں کے افکار و اذہان میں حضرت امام خمینی(رہ) اور اسلامی جمہوریہ کے سلسلے میں  روزافزوں محبت ، الفت اورجاذبہ کو ایک اہم حقیقت قراردیتے ہوئے فرمایا: رہبر کبیر انقلاب اسلامی کی رحلت کے 25 برس بعد ،عوام کےمختلف طبقات بالخصوص جوان اور عالم اسلام کے دانشور شوق و اشتاق کے ساتھ اسلامی جمہوریت، نظریہ ولایت فقیہ اور انقلاب  کے دوسرے مسائل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے مشتاق ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: کسی کو یہ وہم و گمان نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت امام خمینی (رہ) نے انتخابات کو مغربی ثقافت سے اخذ کیا اور پھر اسے اسلامی فکر کے ساتھ مخلوط کردیا کیونکہ اگر انتخابات اور جمہوریت،  اسلامی شریعت کے متن سے اخذ نہ ہوسکتی ، تو امام (رہ) اس بات کو واضح اور صریح طور پر بیان کردیتے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کی بنیاد پر اسلامی نظام کی ماہیت اور حقیقت کے عنوان سے اسلامی شریعت پر تمام امور، قانون سازی، پالیسی،عزل و نصب، عمومی رفتار اور دیگر مسائل میں کامل توجہ رہنی چاہیے اور اس کے ساتھ اس سیاسی اور مدنی نظم کی حرکت جمہوریت کی بنیاد پر ہے جو اسی شریعت کا مظہر اور اسی سے برخاستہ ہے،اور عوام بالواسطہ یا بلا واسطہ ملک کے تمام حکام کو انتخاب کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب میں  زور اور زبردستی اور ہتھیاروں کے ذریعہ غلبہ اور طاقت کا حصول قابل قبول نہیں ہے البتہ عوامی طاقت اور انتخاب کے ذریعہ حاصل ہونے والی قدرت و اقتدار محترم اور قابل قبول ہے اور کسی کو اس کے خلاف سینہ سپر نہیں کرنا چاہیے اگرکسی نے ایسا کام کیا تو اس کا یہ کام فتنہ کہلائے گا۔

:وضاحت

رہبر کے اصل الفاظ یہ تھے: در مکتب امام، قدرتی که از تغلب و اعمال زور حاصل شده باشد مورد قبول نیست اما اقتدار برخاسته از انتخاب مردم معنا دارد. در مقابل قدرت مشروع، نباید کسی سینه سپر کند. اگر چنین کرد، اسم آن فتنه است

یہاں رہبرِ انقلابِ اسلامی نے قدرتِ مشروع یعنی مشروع حکومت کا لفظ استعمال کیا ہے لہٰذا جاننا چاھئے کہ حکومت کے مشروع ہونے سے کیا مراد ہے۔

اس کے  لئے ہم آیت اللہ العظمیٰ آقائی مصباح یزدی دام ظلہ العالی کی کتاب اسلام اور سیاست کی جلد دوم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ آقائی مصباح یزدی فرماتے ہیں

بعض اخباروں، کتابوں اور مقالات میں لکھا جاتا ھے کہ آج کی دنیا میں ”مقبولیت“ اور ”مشروعیت“ ایک ساتھ ھوتی ھیں، یعنی کسی حکومت کی مشروعیت کے لئے عوام الناس کی اکثریت کا ووٹ کافی ھے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ مشروعیت ؛ مقبولیت کی وجہ سے حاصل ھوتی ھے جب عوام الناس نے کسی کو قبول کرلیا اور اس کو ووٹ دیدیا تو اب منتخب شدہ شخص کی حکومت مشروع اور قانونی ھوجاتی ھے۔

یہ وھی ڈیموکریٹک“Democratic” نظریہ ھے جو آج کل کی دنیا میں عام مقبولیت رکھتا ھے تو اب یھاں پر ایک سوال پیدا ھوتا ھے کہ کیا اسلام بھی بالکل اسی نظریہ کو قبول کرتا ھے؟ 

اب جبکہ ھم نے یہ قبول کرلیا ھے کہ اسلامی نقطہ نظر سے حاکم کے لئے ضروری ھے کہ عوام الناس اس کو قبول کرتی ھو اور عوام الناس کی شرکت اور تعاون کے بغیر اسلامی حکومت قوانین کو جاری کرنے پر قادر نھیں ھوسکتی، اور اسلامی احکام کو بھی جاری نھیں کرسکتی، تو سوال یہ ھے کہ اسلامی نظریہ کے مطابق حکومت کے مشروع ھونے میں صرف عوام الناس کا ووٹ کافی ھے، اور قانون کے جاری کرنے والے افراد کی مشروعیت عوام الناس کے ووٹوں کے ذریعہ مشروع ھوجاتی ھے، یا کوئی دوسری چیز بھی اس میں ضمیمہ ھونی چاھئے؟ دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ عوام الناس کا قبول کرنا حکومت کے قانونی اور مشر وع ھونے کے لئے شرط لازم وکافی ھے ،یا اس کے عینی طور پر محقق ھونے کے لئے یہ شرط لازمی ھے۔

جواب میں ھم یہ عرض کرتے ھیں کہ جو کچھ ”ولایت فقیہ “ کے سلسلہ میں بیان ھوا ھے اور اسی وجہ سے یہ حکومت، دوسری مختلف ڈیموکریٹک حکومت سے صاحب امتیاز بناتی ھے وہ یہ ھے کہ کسی حکومت کی مشروعیت اور اس کا قانونی ھونا اسلام کی نظر میں صرف عوام الناس کی رائے نھیں ھے بلکہ عوام الناس کی رائے گویا ایک بدن کی طرح ھے اور اس مشروعیت کی روح ”اذن الٰھی“ ھے ، اور یہ مطلب ایک مسلمان کے عقیدہ میں راسخ ھے۔ 

:آقائی مصباح یزدی اسی کتاب اسلام اور سیاست کی جلد اول میں فرماتے ہیں

’’لوگوں کے نقش اور اسلامی نظام میں ان کے دخالت کو بھتر طور پر سمجھنے کے لئے ایک مثال پیش کرتے ھیں؛ فرض کریں کہ ھم لوگ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں ھوتے او راپنے شھر میں کسی شائستہ ،مناسب اور صالح شخص کو ولایت کے لئے مناسب سمجھتے اور امام علیہ السلام کی خدمت میں جاکر عرض کرتے کہ فلاں شخص ھمارے شھر میں والی ھونے کی صلاحیت رکھتاھے، ممکن تھا امام علیہ السلام ھمارے اس مشورے پر اس شخص کو والی کے عنوان سے منصوب فرماتے۔
اب اگر لوگوں کی اکثریت امام علیہ السلام کی خدمت میں یہ مشورہ پیش کریں تو بطریق اولیٰ امام علیہ السلام اس مشورہ کو قبول فرماتے، اور اس شخص کو اپنی حکومت کے اس علاقہ کی ولایت کے لئے منصوب فرماتے.پس معلوم یہ ھوا کہ لوگوں کے کردارکی اھمیت حکومت اور حکومتی کاموں میں تھیوری کے لحاظ سے ھے اسی طرح کہ افراد تحقیق وبررسی کریں کہ قانون گذاری اور ان کے اجراء کے لئے کون افراد مناسب ھیں ان کو ووٹ دیں او رلوگوں کا ووٹ دینا گویا رھبری کو مشورہ دینا ھے اور درحقیقت ولی فقیہ سے ایک عھدوپیمان ھے کہ اگر اس کو ھماراحاکم معین کریں تو اس کی اطاعت کریں گے، اسی وجہ سے جب امام خمینی کے زمانے میں لوگوں کی اکثریت کسی کو صدر مملکت کے  عنوان سے منتخب کرتی تھی، تو حضرت امام خمینی فرماتے تھے
میں ان کو جنھیں لوگوں کی تائید بھی حاصل ھے صدر کے عنوان سے منصوب کرتا ھوں ، یعنی لوگوں کے ووٹ ایک مشورہ کی طرح ھیں کہ ھم اس کو قبول کریں گے۔
یہ اسلامی حکومت کی تھیوری اور نظریہ ھے جو جمھوریت کے دوسرے معنی کے لحاظ سے کوئی مخالفت نھیں رکھتا، اور 2۰ سال سے ھمارے ملک میں نافذ ھے او رکوئی بھی مشکل نھیں آئی. لیکن اگر جمھوریت کے معنی یہ ھوں کہ معاشرہ میں دین کی دخالت نہ ھوسرکاری اداروں میں کوئی بھی دینی پروگرام نہ ھوںتو کیا ایسی چیز اسلام سے ھم آھنگ ھے یا نھیں؟ بے شک تیسرے معنی کی جمھوریت جو آج کا استعمار اس کی تفسیر کرتا ھے اور دوسروں پر اس کو تحمیل کرنا چاھتا ھے، سو فی صد اسلام ایسی جمھوریت کا مخالف ھے، کیونکہ یہ اسلام کے منافی ھے۔

یہاں ضروری ہے کہ ولایت فقیہ کے اختیار سے متعلق آقائی مصباح یزدی کی یہ مختصر لیکن دو ٹوک گفتگو سماعت کی جائے

VIDEO

لوگوں کی طرف سے منتخب کردہ صدر اگر ولی فقیہ کی طرف سے منصوب نہ کیا جائے تو وہ طاغوت ہے اور اس کی اطاعت حرام ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس سے زیادہ واضح بات کیسے ہو سکتی ہے؟ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حقِ حکومت عوام کو حاصل نہیں ہے اور عوام خدا کی طرف سے مقرر کردہ ولی کو صرف مشورہ دے سکتے ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسی ہی جمہوریت ہے جو ہم اسے ایران کی اسلامی جمہوریت سے موازنہ کرتے ہیں جس میں حاکم ولی فقیہ ہے؟

ایران میں جمہوریت کا معنی عوام کی طرف سے ولی کو ایک مشورہ ہے اور پاکستان یا مغرب میں جمہوریت کا معنی عوام کا اپنی مرضی سے اپنا حاکم چننا ہے جبکہ حقِ حکومت صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے اور ان ہستیوں کو حاصل ہے جنہیں خدا یہ اختیار دے۔ فرزندِ انقلاب و امیدِ مستضعفین استاد سید جواد نقوی حفظہ اللہ کی یہ گفتگو بھی ہمارے موضوع سے متعلق ہے۔

VIDEO

واضح رہے کہ رہبر معظم نے حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کے دو ستون ذکر کئے ہیں: اسلامی شریعت اور اس شریعت کی بنیاد پر قائم جمہوریت۔ ایران کا اسلامی جمہوری نظام دنیا کے تمام جمہوری نطاموں سے یکسر الگ ہے اور پاکستان کے نظام سے بھی الگ ہے۔ اسلامی جمہوریت جسے اسلای شریعت قبول کرتی ہے ایک ایسی جمہوریت ہے جس میں عوام کا کردار ہے لیکن حقِ حکومت عوام  کا نہیں ہے، عوام خدا کی طرف سے مقرر کردہ حاکم کو صرف مشورہ دے سکتے ہیں اور وہ حاکم یعنی ولی ہی اس صدر کو منصوب کرتا ہے، اگر ولی منصوب نہ کرے تو وہ صدر طاغوت ہے۔ کیا پاکستان کے حاکم ولی کی اجازت سے حاکم ہیں؟ ہر گز نہیں، یہی طاغوت ہیں جن کا قرآن نے انکار کا حکم دیا ہے۔

اسلامی نظام عوامی عوامی بیداری کے نتیجے میں برپا ہوتا ہے جیسے ایران میں ہوا کہ عوام نے امام خمینی کی قیادت میں شاہ کی طاغوتی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور پھر امام خمینی نے عوامی و جمہوری ریفرینڈم کروایا کہ آیا آپ کو اسلامی حکومت قبول ہے یا نہیں؟ جب عوام نے اسے قبول کر لیا تو پھر اس کے بعد امام نے اسلامی حکومت تشکیل دی کیوں کہ عوام کی قبولیت شرط ہے اور اس میں زور زبردستی نہیں کی جا سکتی۔ حکومت کا مشروع ہونا خدا کی طرف سے ہے اور اس کا مقبول ہونا عوام کی طرف سے ہے۔ یہی نظامِ امام و امت ہے کہ امام خدا کی طرف سے آتا ہے اور امت اسے قبول کرتی ہے تو نظام امامت برپا ہوجاتا ہے اور اس تک پہنچنے کا راستہ بیداری و شعور ہے کیوں کہ لا اکراہ فی الدین، دین میں کوئی جبر نہیں۔

طاغوتی نظام کے تحت ہونے والے الیکشن سے اسلامی نظام کیسے برپا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ایک نظام کو تسلیم بھی کریں اور ساتھ ہی اس کا انکار بھی کریں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اگر آپ نے لاہور سے اسلام آباد جانا ہو تو آپ ملتان جانے والی روڈ پر سفر شروع کر دیں اور پھر بھی اسلام آباد پہنچ جائیں؟ اسلامی نظام کے لئے پہلے  طاغوتوں کا انکار کرنا پڑتا ہے پھر نظام ولایت کا راستہ ہموارہوتا ہے۔ جب تک طاغوت کو لا نہیں کہیں گے، اگلا قدم نہیں اٹھ سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستانی ملت طاغوتوں کا نکار کر کے ولایت خدا کی محفوظ پناہ گاہ میں آجائے گی، انشاء للہ۔

خناسوں اور وسوسہ ڈالنے والوں کے شر سے بچنے کے لئے ہمیں یقین کی منزل تک پہنچنا ہو گا جو کہ امیر المومنین (ع) کے فرمان کے مطابق ایمان کا ایک رکن ہے۔ یقین، دلیل و برھان سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم علمائے حق کی کتب کا مطالعہ کریں۔ قارئین کے استفادہ کے لئے آیت اللہ مصباح یزدی (دام ظلہ العالی) کی کتب اسلام اور سیاست کی دونوں جلدوں کا لنک دیا جا رہا ہے۔

اسلام اور سیاست جلد اول

اسلام اور سیاست جلد دوم

Advertisements

One comment

  1. ماشاء اللہ بہت پر مغز بات کی ہے لیکن رہبر معظم نے مرقد امام (رہ) پر جو خطاب کیا ہے ان میں یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ لوگ صدر کو براہ راست انتخاب کرتے ہیں جبکہ خود رہبر (ولی فقیہ) کو بالواسطہ طور پر انتخاب کرتے ہیں ۔۔۔۔ اب ہمارے سمجھانے کیلیے یہ وضاحت فرما دیں کہ اگر اللہ نے رہبر معظم کو حاکم بنایا تھا تو پھر عوام کیسے انہیں بالواسطہ منتخب کر رہے ہیں یعنی عوام خبرگان کو براہ راست انتخاب کرتے ہیں اور خبرگان رہبر کو براہ راست انتخاب کرتے ہیں یعنی رہبر (ولی فیقہ ) بھی انتخاب کے ذریعے سامنے آتے ہیں ۔۔۔۔ اب یہ جو خبرگان ووٹ ڈالتے ہیں یہ کس کھاتے میں جائے گا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s